مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من كره للمرأة (الطيب) إذا خرجت باب: جو عورت کے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے کو مکروہ سمجھتے ہیں
حدیث نمبر: 28028
٢٨٠٢٨ - حدثنا وكيع عن موسى بن عُبيدة عن محمد بن المنكدر (قال) (١): زارت أسماء أختها عائشة، والزبير غائب، فدخل النبي ﷺ فوجد ريح طيب فقال: "ما على امرأة أن (لا) (٢) تطيب وزوجها غائب" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ حضرت اسمائ اپنی بہن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لیے آئیں اس حال میں کہ حضر ت زبیر موجود نہیں تھے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاکیزہ خوشبو محسوس کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عورت کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ خوشبو لگائے جبکہ اس کا خاوند موجود نہ ہو۔
حواشی
(١) في [ط]: (قالت).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].