مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من كره للمرأة (الطيب) إذا خرجت باب: جو عورت کے گھر سے نکلتے وقت خوشبو لگانے کو مکروہ سمجھتے ہیں
حدیث نمبر: 28027
٢٨٠٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم إن امرأته (استأذنته) (١) أن تأتي أهلها. فأذن لها فوجد بها ريح (دخنة فحبسها) (٢)، وقال: إن المرأة إذا تطيبت ثم خرجت فإنما طيبها شنار فيه نار.مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم سے ان کی بیوی نے اپنے گھر والوں کے پاس جانے کی اجازت مانگی تو آپ نے اسے اجازت دے دی۔ پھر آپ کو اس سے دھونی کی خوشبو محسوس ہوئی تو آپ نے اس کو روک دیا اور فرمایا : بیشک عورت جب خوشبو لگائے پھر گھر سے نکلے، تو اس کی خوشبو میں ایسا فتنہ ہے جس میں آگ ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (استأذنت).
(٢) في [ث]: (دخنة وحبسها)، وفي [جـ، م]: (دخنه فجلس)، وفي [أ، هـ]: (رحنة فجلسها).