حدیث نمبر: 28021
٢٨٠٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم أن عمر بن الخطاب خرج يوم عيد، فمر بالنساء فوجد ريح رأس امرأة، (فقال) (١): من صاحبة هذا؟ أما لو (عرفتها) (٢) لفعلت وفعلت، إنما تطيب المرأة لزوجها، فإذا خرجت لبست أُطَيْمِرها أو (أطيمر) (٣) خادمها، فتحدث (النساء) (٤) أنها قامت عن حدث (٥).
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب عید کے دن نکلے، آپ کا گزر عورتوں کے پاس سے ہوا، تو آپ کو کسی عورت کے سر سے خوشبو محسوس ہوئی، آپ نے پوچھا : یہ خوشبو والی عورت کون ہے ؟ اگر میں نے اس کو پہچان لیا تو میں اس کو ایسی اور ایسی سزادوں گا، اس لیے کہ عورت صرف اپنے خاوند کے لیے خوشبو لگا سکتی ہے۔ اور جب وہ نکلے تو اپنے کوئی بوسیدہ یا اپنی خادمہ کے بوسیدہ کپڑے پہن لے، اس پر عورتوں نے بتایا کہ یہ عورت حدث کی وجہ سے اٹھی ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [جـ]: (عرفها).
(٣) في [ط]: (الهميد)، والأطيمر: الثوب البالي القديم غير الجميل.
(٤) في [ط]: (الناس).
(٥) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28021
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28021، ترقيم محمد عوامة 26862)