مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من تعلم الرمي ثم تركه، كانت (نعمة) يكفرها باب: جو شخص تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو اس نے نعمت کی ناشکری کی
حدیث نمبر: 28013
٢٨٠١٣ - حدثنا أبو بكر (١) ابن عياش عن عاصم عن أبي العدبس قال: سمعت عمر يقول: أخيفوا الهوام قبل أن تخيفكم (٢)، وانتضِلوا ⦗٤٢٤⦘ (وتَمعْددوا) (٣) واخْشَوشِنُوا، (واجعلوا) (٤) الرأسَ رأسين، وفرقوا (بين) (٥) المنية (٦)، ولا (تُلِثُوا) (٧) بدار معجزة (٨)، وأخيفوا (الحيات) (٩) من قبل أن تخيفكم، وأصلحوا (مثاويكم) (١٠) (١١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العدبّس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ تم حشرات کو ڈراؤ قبل ازیں کہ وہ تمہیں خوف زدہ کریں اور تم باہم تیر اندازی کا مقابلہ کیا کرو، اور قبیلہ معد کی طر ز زندگی اختیار کرو اور موٹا ، کھردرا کپڑا پہنو، اور اپنے مال کو ہلاک ہونے سے بچاؤ، اور تم ایسی جگہ اقامت اختیار مت کرو جہاں تمہارا رزق تنگ ہو اور تم سانپوں کو ڈراؤ قبل ازیں کہ وہ تمہیں خوف زدہ کریں اور اپنے گھر والوں کو درست رکھو۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: زيادة (قال: حدثنا).
(٢) أي: اقتلوها قبل أن تقتلكم.
(٣) في [ط]: (وتعدوا).
(٤) في [جـ]: (واملوا).
(٥) في [أ، هـ، م]: (عن).
(٦) أي: اشتروا بثمن الرأس الواحد رأسين، فإن مات أحدهما بقي الآخر.
(٧) في [أ، ث، م]: (تلبثوا).
(٨) أي: لا تبقوا بمكان تعجزون فيه عن الكسب.
(٩) في [جـ]: (اليات).
(١٠) في [أ، ب، ط]: (مناويكم).
(١١) مجهول؛ لجهالة أبي العدبس، أخرجه عبد الرزاق (١٦٩١٨)، والطحاوي ٤/ ٢٧٥، وابن الجعد (٩٩٥)، والبيهقي ١٠/ ١٤، وابن أبي عمر كما في المطالب (٣١٢٦)، والسمعاني في أدب الإملاء ص ١١٨.