حدیث نمبر: 28009
٢٨٠٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا (١) الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلام عن عبد اللَّه بن الأزرق عن عقبة بن عامر الجهني عن النبي ﷺ قال: "إن اللَّه ليدخل بالسهم الواحد الثلاثة الجنة: صانعه يحتسب في صنعته الخير، والرامي به، والممد به"، (وقال) (٢): "ارموا واركبوا، وإن ترموا أحبُّ إليّ من أن تركبوا، وكل ما يلهو به المرء المسلم باطل إلا رميه بقوسه، وتأديبه فرسه، وملاعبته أهله، فإنهن من الحق" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ یقینا اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین لوگوں کو جنت میں داخل کریں گے ، تیر کے بنانے والے کو جس نے ثواب کی نیت سے اس کو بنایا۔ اور اس کے چلانے والے کو اور تیر کے پکڑانے والے کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیر اندازی کرو اور سواری کرو۔ اور تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک تمہارے سوار ہونے سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔ اور وہ تمام کھیل جو مسلمان بندہ کھیلتا ہے وہ باطل ہیں ۔ سوائے اس کے کہ وہ اپنے کمان کے ذریعہ تیر چلاتا ہو ، یا اپنے گھوڑے کو سدھاتا ہو یا اپنی بیوی کے ساتھ تفریح کرتا ہو، بیشک یہ تمام چیزیں حق میں سے ہیں۔

حواشی
(١) في [ن]: زيادة (الدستواني).
(٢) في [ط]: (قال).
(٣) مجهول؛ عبد اللَّه بن الأزرق مجهول، أخرجه أحمد (١٧٣٠٠)، والترمذي (١٦٣٧)، وابن ماجة (٢٨١١)، والطيالسي (١٠٠٦)، والدارمي (٢٤٠٥)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٥٠٢، والطحاوي في شرح المشكل (٢٩٥)، والطبراني ١٧/ (٩٤٠)، والبيهقي ١٠/ ١٣.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28009
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28009، ترقيم محمد عوامة 26850)