مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من تعلم الرمي ثم تركه، كانت (نعمة) يكفرها باب: جو شخص تیر اندازی سیکھے پھر اسے چھوڑ دے تو اس نے نعمت کی ناشکری کی
٢٨٠٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا (١) الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلام عن عبد اللَّه بن الأزرق عن عقبة بن عامر الجهني عن النبي ﷺ قال: "إن اللَّه ليدخل بالسهم الواحد الثلاثة الجنة: صانعه يحتسب في صنعته الخير، والرامي به، والممد به"، (وقال) (٢): "ارموا واركبوا، وإن ترموا أحبُّ إليّ من أن تركبوا، وكل ما يلهو به المرء المسلم باطل إلا رميه بقوسه، وتأديبه فرسه، وملاعبته أهله، فإنهن من الحق" (٣).حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ یقینا اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین لوگوں کو جنت میں داخل کریں گے ، تیر کے بنانے والے کو جس نے ثواب کی نیت سے اس کو بنایا۔ اور اس کے چلانے والے کو اور تیر کے پکڑانے والے کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیر اندازی کرو اور سواری کرو۔ اور تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک تمہارے سوار ہونے سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔ اور وہ تمام کھیل جو مسلمان بندہ کھیلتا ہے وہ باطل ہیں ۔ سوائے اس کے کہ وہ اپنے کمان کے ذریعہ تیر چلاتا ہو ، یا اپنے گھوڑے کو سدھاتا ہو یا اپنی بیوی کے ساتھ تفریح کرتا ہو، بیشک یہ تمام چیزیں حق میں سے ہیں۔