مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما ينهى (عنه) الرجل أن يسبه باب: آدمی کو ان چیزوں کو گالی دینے سے منع کیا گیا ہے
٢٧٩٩٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عاصم الأحول عن الحسن أن رسول اللَّه ﷺ كان في (سير) (١)، فهبت ريح، فكشفت عن رجل قطيفة كانت عليه، فلعنها، فقال له النبي ﷺ: " (ألعنتها؟) (٢) " قال: يا رسول اللَّه كشفت قطيفتي، فقال: "إذا رأيتها فسل اللَّه من خيرها، وتعوذ باللَّه من شرها، ولا تلعنها فإنها مأمورة" (٣).حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے کہ ہوا چل پڑی اور ایک آدمی کی چادر اس وجہ سے کھل گئی تو اس نے ہوا کو لعن طعن کی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا تم نے ہوا کو لعنت کی ہے ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری چادر کھل گئی ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم ہوا دیکھو تو اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ، اور اس کو لعنت مت کرو اس لیے کہ یہ تو اللہ کی طرف سے مامور ہے۔