حدیث نمبر: 27996
٢٧٩٩٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عاصم الأحول عن الحسن أن رسول اللَّه ﷺ كان في (سير) (١)، فهبت ريح، فكشفت عن رجل قطيفة كانت عليه، فلعنها، فقال له النبي ﷺ: " (ألعنتها؟) (٢) " قال: يا رسول اللَّه كشفت قطيفتي، فقال: "إذا رأيتها فسل اللَّه من خيرها، وتعوذ باللَّه من شرها، ولا تلعنها فإنها مأمورة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے کہ ہوا چل پڑی اور ایک آدمی کی چادر اس وجہ سے کھل گئی تو اس نے ہوا کو لعن طعن کی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا تم نے ہوا کو لعنت کی ہے ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری چادر کھل گئی ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم ہوا دیکھو تو اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ، اور اس کو لعنت مت کرو اس لیے کہ یہ تو اللہ کی طرف سے مامور ہے۔

حواشی
(١) في [م]: (مسير).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (لعنتها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27996
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27996، ترقيم محمد عوامة 26837)