حدیث نمبر: 27946
٢٧٩٤٦ - حدثنا أبو الأحوص عن عمران بن مسلم عن إبراهيم التيمي عن أبيه قال: كنا قعودًا عند عمر بن الخطاب، فدخل عليه رجل فسلم عليه، فأثنى عليه رجل من القوم في وجهه، فقال (١) عمر: عقرت الرجل عقرك اللَّه، تثني عليه في وجهه في دينه (٢).
مولانا محمد اویس سرور

ابراہیم تیمی کے والد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمر بن خطاب کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص داخل ہوا ، اس نے آپ کو سلام کہا، پھر لوگوں میں سے ایک آدمی نے اس کے منہ پر اس کی تعریف کی۔ اس پر حضرت عمر نے اس شخص سے کہا : تو نے اس آدمی کو ہلاک کردیا ، اللہ تجھے ہلاک کرے، تو اس کے سامنے اس کے دین کی تعریف کر رہا ہے ؟

حواشی
(١) في [أ، جـ، م]: زيادة (له).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27946
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27946، ترقيم محمد عوامة 26787)