مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
في تعمد الكذب على النبي ﷺ وما جاء فيه باب: جان بوجھ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف جھوٹی بات منسوب کرنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات ذکر کی گئیں
حدیث نمبر: 27925
٢٧٩٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن جامع بن شداد عن عامر بن عبد اللَّه بن الزبير (عن أبيه) (١) قال: قلت للزبير: يا (أبة) (٢)! (مالي) (٣) لا أسمعك تحدث عن رسول اللَّه ﷺ كما أسمع ابن مسعود وفلانا وفلانا؟ فقال: (أما) (٤) إني لم أفارقه منذ أسلمت ولكني سمعت منه كلمة (٥): "من كذب علي (متعمدًا) (٦) فليتبوأ مقعده من النار" (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت زبیر سے پوچھا : اے ابا جان ! میں نے کبھی آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا جیسا کہ میں حضرت ابن مسعود اور فلاں، فلاں کو بیان کرتے ہوئے سنتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : میں جب سے اسلام لایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا نہیں ہوا لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک بات سنی کہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ کی نسبت کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ح، ط].
(٢) في [هـ]: (أبتي).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) زيادة من: [جـ، م].
(٥) في: [هـ]: زيادة (يقول).
(٦) سقط من: [أ، ح، م].