مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما كره من اطلاع الرجل على الرجل باب: آدمی کادوسرے آدمی پر جھانکنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 27914
٢٧٩١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن بركة (بن) (١) يعلى (التيمي) (٢) عن أبي سويد العبدي قال: كنا بباب ابن عمر نستأذن عليه فحانت مني التفاتة، فرآني فقال: أيكم (اطلع) (٣) في داري؟ قال: قلت: أنا أصلحك اللَّه حانت مني ⦗٣٩٤⦘ التفاتة فنظرت، قال: (ويحل) (٤) لك أن تطلع في داري (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سوید عبدی فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دروازے پر ان سے اجازت طلب کر رہے تھے کہ میری نگاہ پڑگئی اور انہوں نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا تم میں سے کس نے میرے گھر میں جھانکا ؟ میں نے عرض کیا : میں نے … اللہ آپ کو درست رکھے …کہ اچانک میری نظر پڑگئی تو میں نے دیکھ لیا۔ آپ نے فرمایا : ہلاکت ہو ! تو نے کیوں میرے گھر میں جھانکا ؟ !
حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (عن أبي).
(٢) في [جـ]: (التحيى).
(٣) في [ث، جـ، م]: (المطلع).
(٤) في [أ، ح، هـ]: (ويحك).
(٥) مجهول؛ لجهالة بركة وأبي سويد، أخرجه أحمد (٥٦٧٢).