مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
في اللعب بالنرد وما جاء فيه باب: چوسر کھیلنے کا بیان اور اس بارے میں جو روایات منقول ہیں
حدیث نمبر: 27825
٢٧٨٢٥ - حدثنا ابن علية عن ابن أبي عروبة عن قتادة قال: بلغنا أن رسول اللَّه ﷺ سئل عن اللعب بالكعبين فقال: "إنها ميسر الأعاجم" (١). قال: وكان قتادة يكره اللعب بكل شيء حتى يكره اللعب (بالحصى) (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نرد کے مہروں کے ساتھ کھیلنے کے متعلق سوال کیا گیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک یہ تو عجمیوں کا جوا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضر ت قتادہ ہر چیز کے ساتھ کھیلنے کو مکروہ سمجھتے تھے یہاں تک کہ لاٹھی کے ساتھ کھیلنے کو بھی۔
حواشی
(١) مرسل؛ قتادة ليس صحابيًا.
(٢) في [جـ، م]: (العصا).