مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما يكره (للرجل) أن ينتمي إليه وليس كذلك باب: آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ خود کو کسی کی طرف منسوب کرے حالانکہ ایسی بات نہ ہو
حدیث نمبر: 27788
٢٧٧٨٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) سعيد بن أبي عروبة عن (قتادة عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم عن) (٢) عمرو بن خارجة أن النبي ﷺ خطبهم وهو على راحلته وإن راحلته لَتَقْصعَ (بجِرَّتها) (٣) وإن لعابها (ليسيل) (٤) بين كتفي فقال: "من ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه فعليه لعنة ⦗٣٦٠⦘ اللَّه، لا يقبل (٥) منه صرف ولا عدل"، -أو قال: "عدل ولا صرف" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن خارجہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے خطاب فرمایا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تھے اور سواری کا جانور جگالی کر رہا تھا اور اس کی رال اس کے کندھوں کے درمیان بہہ رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو کسی کو غیر باپ کی طرف منسوب کرلے، یا جو شخص اپنے آقا کے علاوہ کسی سے تعلق جوڑے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ اور اس کی کوئی فرض عبادت اور نفلی عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔
حواشی
(١) في [أ، س، هـ]: (حدثنا).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) في [هـ]: (بحرانها).
(٤) في [أ، هـ]: (يسيل).
(٥) في [أ، جـ، ح، ط]: زيادة (اللَّه).
(٦) منقطع حكمًا؛ شهر مدلس، أخرجه أحمد (١٧٦٦٤)، والترمذي (٢١٢١)، وأبو داود (٥١١٥)، وابن ماجه (٢٧١٢)، والدارمي (٢٥٢٩)، وأبو يعلى (١٥٠٨)، وابن سعد (١٢/ ١٨٣)، وابن قانع (٢/ ٢١٩)، وابن جرير في مسند علي من تهذيب الآثار (٣٣٨)، والطبراني (١٧/ [٦٠])، والمزي (٢١/ ٦٠٠)، وعبد الرزاق (١٦٣٠٧)، والدارقطني (٤/ ١٥٢)، والبيهقي (٦/ ٢٦٤)، وابن عبد البر في التمهيد (١٤/ ٢٩٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٧٨٦)، والبغوي في التفسير (١/ ١٤٧)، والطيالسي (١٢١٧).