مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما يكره (للرجل) أن ينتمي إليه وليس كذلك باب: آدمی کے لیے مکروہ ہے کہ وہ خود کو کسی کی طرف منسوب کرے حالانکہ ایسی بات نہ ہو
حدیث نمبر: 27786
٢٧٧٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن مجاهد عن (عبد اللَّه) (١) بن عمرو رفعه قال: من ادعى إلى غير أبيه فلن يريح ريح الجنة، فلما رأى ذلك نعيم بن أبي أمية، وكان معاوية أراد أن يدعيه قال لمعاوية: إنما أنا سهم من كنانتك (فاقذفني) (٢) حيث شئت (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مرفوعاً حدیث بیان فرمائی کہ جو شخص کسی کو غیر باپ کی طرف منسوب کرے ، وہ ہرگز جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا۔ جب نعیم بن ابی امیہ نے یہ معاملہ دیکھا اس حال میں کہ حضرت معاویہ کا ارادہ تھا کہ وہ اس کو غیر باپ کی طرف منسوب کریں تو اس نے حضرت معاویہ سے فرمایا : بیشک میں تو آپ کے ترکش کا ایک تیر ہوں آپ جہاں چاہیں مجھے پھینک دیں۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [ح]: (فاقذفي)، وفي [ط]: (فاقدفي)، وفي [هـ]: (ناقدني).