حدیث نمبر: 27757
٢٧٧٥٧ - حدثنا وكيع عن مسعر عن قتادة عن ابن عباس قال: ما كنت أدري ما قوله: ﴿رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ﴾ [الأعراف: ٨٩]، حتى سمعت (بنت) (١) ذي يزن (تقول) (٢): (تعال) (٣) أفاتحك (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قتادہ فرماتے ہی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : میں اللہ رب العزت کے قول : { رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ } کے بارے میں نہیں جانتا تھا کہ اس کا کیا مطلب ہے ۔ یہاں تک کہ میں نے بنت ذی یزن کو کہتے ہوئے سنا : آؤ میں تمہارا فیصلہ کروں۔

حواشی
(١) في [ط]: (بيت).
(٢) في [جـ، ح، ط]: (يقول).
(٣) في [أ، ح]: (تعل)، وفي [ط]: (لعل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27757
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27757، ترقيم محمد عوامة 26600)