حدیث نمبر: 27735
٢٧٧٣٥ - حدثنا يزيد قال: أخبرنا عبد الملك (بن) (١) قدامة الجمحي قال: حدثني (عمر) (٢) بن شعيب أخو عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: لما رفع الناس أيديهم من صفين قال: عمرو بن العاص: ⦗٣٤٣⦘ (شبت) (٣) الحرب فأعددت لها … مفرع الحارك (مرويّ الثبج) (٤) يصل الشد بشد فإذا … وثب الخيل من (الشد) (٥) (معج) (٦) (جرشع) (٧) أعظمه (جفرته) (٨) … فإذا ابتل من الماء (حدج) (٩) قال: وقال عبد اللَّه بن عمرو: لو شهدتْ (جُمل) (١٠) مقامي ومشهدي … بصفين يوما شاب منها الذوائب غداة أتى أهل العراق كأنهم … سحاب ربيع (رفّعته) (١١) الجنائب (وجئناهم) (١٢) (يُزِدّى) (١٣) كأن صفوفنا … من البحر مد موجُه متراكب ⦗٣٤٤⦘ ودارت (رحانا) (١٤) (واستدارت) (١٥) رحاهم … (سراة) (١٦) (النهار) (١٧) ما (تولى) (١٨) المناكب إذا قلت قد ولوا سراعًا بدت لنا … كتائب مهم (فارجحنت) (١٩) كتائب فقالوا: لنا إنا نرى أن تبايعوا … عليا فقلنا بل نرى أن (نضارب) (٢٠) (٢١)
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب لوگوں نے صفین جنگ سے اپنے ہاتھ کھڑے کرلیے تو حضرت عمرو بن العاص نے یہ اشعار کہے :: جب جنگ نے زور پکڑا تو میں نے اس کے لیے اپنے کندھوں اور سینے کو تیار کرلیا۔ جب تیز چلنے کی وجہ سے گھوڑے سست پڑجائیں گے تو سختی کا مقابلہ سختی سے ہوگا۔ میرا گھوڑا چوڑے سینے والا اور بڑے پیٹ والا ہے۔ اس کا قد درمیانہ ہے اور جب وہ کسی دیکھتا ہے یا آواز سنتا ہے تو اپنے کان کھڑے کرلیتا ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے :: اگر جمل نامی عورت صفیں میں میری بہادری کو دیکھ لیتا تو اس کے بال سفید ہوجاتے ۔ جب عراق والے اس طرح حملہ آور ہوئے جیسے گھٹا چھاتی ہے۔ ہم اپنے دشمنوں کو نیست ونابود کرنے کے لیے اس طرح آئے ہیں کہ ہمارے لشکر سمندر کی موجوں کی طرح ہیں۔ دن کے روشن ہونے پر ہمارے اور ان کے درمیان جب جنگ تیزہوئی تو نہ کسی نے پیٹھ پھیر نہ کوئی فرار ہوا۔ جب کوئی کہے کہ وہ تیزی سے پیٹھ پھیر گئے تو اتنی دیر میں ان کے مزید لشکر ظاہر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بعتی کرلو، ہم کہتے ہیں کہ ہم جنگ کریں گے۔ (محمد عوامہ کی تحقیق کے مطابق ان اشعار کی نسبت ان جلیل القدر صحابہ کی طرف درست نہیں۔ انہوں نے اپنے اس موقف کو بہت سے دلائل سے ثابت کیا ہے۔ دیکھیے۔ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣ صفحہ ٣٠٤)

حواشی
(١) في [أ، جـ، ح، ط، م]: (عن).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (عمرو).
(٣) في [أ، ح، ط]: (شيب).
(٤) أي: أعلى الكاهل الغليظ، وفي [هـ]: (مودي الثلج)، وفي [ح]: (موري الثج)، وفي [أ]: (مودي الثيح)، وفي [م]: (ملوي الثيح).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (الثج).
(٦) المعج سير سهل سريع، وفي [جـ]: (ملج).
(٧) أي: عظيم الصدر، وفي [أ، ح، ط]: (خرشع).
(٨) أي: أن أكبره هو وسطه، وفي [ح، هـ]: (حفرته).
(٩) في [جـ، م]: (خدج).
(١٠) في [ح، ط]: (حمل)، وفي [جـ]: (بجمل).
(١١) في [أ، ح، ط، هـ]: (صفّفته).
(١٢) في [أ، ط]: (وحساهم).
(١٣) في [أ، هـ]: (يردي).
(١٤) في [ح، م]: (دحانا).
(١٥) في [أ]: (واستندارت).
(١٦) في [أ]: (لراة).
(١٧) في [أ، ح، ط]: (اليهادي).
(١٨) في [أ، هـ]: (توالي).
(١٩) في [م، هـ]: (وارجحنت).
(٢٠) في [جـ، م]: (تضاربوا).
(٢١) مجهول؛ عمر بن شعيب مجهول، وعبد الملك ضعيف، أخرجه ابن جرير في مسند عمر من تهذيب الآثار (٩٨٨)، والحارث (٧٥٦/ بغية) كما في المطالب العالية (٤٤٢٦)، والخطيب في تالي تلخيص المتشابه (١/ ١٥٩)، وابن عساكر (٣١/ ٢٧٦)، والطبراني كما في مجمع الزوائد (٧/ ٢٤٠).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27735
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27735، ترقيم محمد عوامة 26578)