مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
(باب استماع النبي ﷺ الشعر وغير ذلك) باب: (نبی ﷺ کا شعر اور دیگر امور کو سننا)
٢٧٧٣٤ - حدثنا أبو أسامة (قال: حدثنا) (١) مجالد عن عامر أن حارثة بن بدر (التميمي) (٢) من أهل البصرة قال: ألا أبلغن همدان (إما) (٣) لقيتها … سلام فلا يسلم عدو (يعيبها) (٤) ⦗٣٤٢⦘ (لعمري يمينًا) (٥) إن همدان تتقي … الإله ويقضي بالكتاب خطيبها. (٦) (تشيب) (٧) رأسي واستخف … رعود المنايا (حولنا) (٨) وبروقها وإنا (لتستحلي) (٩) (المنايا) (١٠) نفوسنا … ونترك (أخرى مرة) (١١) ما نذوقها قال عامر: فحدث بهذا الحديث عبد اللَّه (بن) (١٢) جعفر (قال) (١٣): كنا نحن أحق بهذه الأبيات من (هَمْدان) (١٤) (١٥).حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت حارثہ بن بدر تمیمی جو کہ بصری ہیں انہوں نے یہ شعر پڑھا : : جب تم ہمدان سے ملاقات کرو تو انہیں ہماری طرف سے سلام دینا اور پیغام دینا کہ ہمدان کو عیب دار کرنے والا دشمن سالم نہیں رہ سکتا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہمدان والے اللہ سے ڈرتے ہیں اور ان کا خطیب کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہے۔ اور یہ شعر پڑھا :: میرے سر کے بال سفید ہوگئے اور ہماری عقلوں کو موت کی کڑک اور چمک نے ہلکا کردیا۔ ہمارے دل موت کو میٹھا سمجھتے ہیں اور زندگی کو کڑوا۔ حضرت عامر فرماتے ہیں : یہ بات حضرت عبد اللہ بن جعفر کو بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا : ہم لوگ ہمدان سے زیادہ ان اشعار کے حقدار تھے۔