حدیث نمبر: 27719
٢٧٧١٩ - حدثنا عبدة عن هشام (عن) (١) أبيه عن عائشة قالت: قدمنا المدينة وهي وبية فاشتكى أبو بكر واشتكى بلال، قالت: فكان أبو بكر إذا أفاق يقول: كل امرئ مصبح في أهله … والموت أدنى من شراك نعله ⦗٣٣٦⦘ (قالت) (٢): وكان بلال إذا أفاق يقول: ألا ليت شعري هل أبيتن ليلة … بواد وحولي إذخر وجليل (و) (٣) هل أردن يومًا مياه مجنة … وهل يبدون لي شامة وطفيل (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ مدینہ آئے اس حال میں کہ مدینہ وباء زدہ جگہ تھی، پس حضرت ابوبکر اور حضرت بلال بیمار ہوگئے ۔ جب حضرت ابوبکر صحت مند ہوئے تو آپ یہ شعر پڑھتے تھے :: ہر آدمی اپنے گھروالوں میں صبح کرتا ہے اس حال میں کہ موت اس کی جوتی کے تسمہ سے بھی قریب ہوتی ہے۔ اور جب حضرت بلال صحت مند ہوئے تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ : کاش اے میرے شعر : میں رات گزاروں مکہ کی وادی میں اس حال میں کہ میرے اردگرد اذخر اور ثمامہ کی گھاس ہو۔ اور کیا میں کسی دن مجنّہ کے پانی کی جگہ اتروں گا اور کیا میرے سامنے شامہ اور طفیل چشمے ظاہر ہوں گے۔

حواشی
(١) في [جـ]: (بن).
(٢) في [جـ]: (قال).
(٣) سقط من: [هـ]، وفي [ط]: (ولم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27719
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٨٨٩)، ومسلم (١٣٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27719، ترقيم محمد عوامة 26562)