مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
(باب استماع النبي ﷺ الشعر وغير ذلك) باب: (نبی ﷺ کا شعر اور دیگر امور کو سننا)
٢٧٧٠٤ - حدثنا أبو أسامة (عن أسامة) (١) عن نافع قال: (كان) (٢) لعبد اللَّه (بن رواحة) (٣) جارية فكان يكاتم امرأته غشيانها، قال: فوقع عليها ذات يوم فجاء (إلى) (٤) امرأته فاتهمته أن يكون وقع عليها، فأنكر ذلك فقالت (له) (٥): (اقرأ إذًا) (٦) القرآن، فقال: شهدت بإذن اللَّه أن محمدًا … رسول الذي فوق السماوات من عل وأن أبا يحيى ويحيى كلاهما … له عمل في دينه متقبل ⦗٣٣١⦘ فقالت: (أولى لك) (٧) (٨).حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن رواحۃ کی ایک باندی تھی۔ آپ اس سے جماع کرنے کو اپنی بیوی سے چھپاتے تھے۔ ایک دن آپ نے اس اسے جماع کیا اور جب اپنی بیوی کے پاس آئے تو اس نے آپ پر الزام لگایا کہ آپ نے اس باندی سے جماع کیا ہے ؟ آپ نے اس کا انکار کیا تو آپ کی بیوی نے آپ سے کہا : اگر ایسی بات ہے تو قرآن پڑھو : آپ نے یہ اشعار پڑھ دیئے۔ : میں اللہ کے حکم سے گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس اللہ کے رسول ہیں جو آسمانوں کے اوپر ہے۔ یحییٰ اور ان کے والد دونوں کا عمل اس دین میں قابل قبول ہے۔ اس نے کہا : تم سچے ہو۔