حدیث نمبر: 27704
٢٧٧٠٤ - حدثنا أبو أسامة (عن أسامة) (١) عن نافع قال: (كان) (٢) لعبد اللَّه (بن رواحة) (٣) جارية فكان يكاتم امرأته غشيانها، قال: فوقع عليها ذات يوم فجاء (إلى) (٤) امرأته فاتهمته أن يكون وقع عليها، فأنكر ذلك فقالت (له) (٥): (اقرأ إذًا) (٦) القرآن، فقال: شهدت بإذن اللَّه أن محمدًا … رسول الذي فوق السماوات من عل وأن أبا يحيى ويحيى كلاهما … له عمل في دينه متقبل ⦗٣٣١⦘ فقالت: (أولى لك) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن رواحۃ کی ایک باندی تھی۔ آپ اس سے جماع کرنے کو اپنی بیوی سے چھپاتے تھے۔ ایک دن آپ نے اس اسے جماع کیا اور جب اپنی بیوی کے پاس آئے تو اس نے آپ پر الزام لگایا کہ آپ نے اس باندی سے جماع کیا ہے ؟ آپ نے اس کا انکار کیا تو آپ کی بیوی نے آپ سے کہا : اگر ایسی بات ہے تو قرآن پڑھو : آپ نے یہ اشعار پڑھ دیئے۔ : میں اللہ کے حکم سے گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس اللہ کے رسول ہیں جو آسمانوں کے اوپر ہے۔ یحییٰ اور ان کے والد دونوں کا عمل اس دین میں قابل قبول ہے۔ اس نے کہا : تم سچے ہو۔

حواشی
(١) سقط من: [ز، هـ].
(٢) في [ث]: (كانت)، وكذلك في بقية النسخ.
(٣) زيادة من: [جـ، ز، م].
(٤) سقطة من: [ط].
(٥) زيادة من: [جـ، ز، م].
(٦) في [جـ]: (إذا اقرأ).
(٧) في [س، ط، هـ]: (أولا ذلك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27704
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ نافع تابعي، أخرجه ابن عساكر ٢٨/ ١١٣، وابن أبي الدنيا في العيال (٥٧٣)، وابن قدامة في إثبات صفة العلو (ص ١٠٠)، ووردت القصة بأسانيد أخرى، انظر: سنن الدارقطني (١/ ١٢٠)، وسير أعلام النبلاء ١/ ٢٣٨، وطبقات الشافعية الكبرى ١/ ٢٦٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27704، ترقيم محمد عوامة 26547)