حدیث نمبر: 277
٢٧٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (إبراهيم) (١) عن عبد الرحمن بن يزيد قال: إن للشيطان قارورة (فيها نفوخ) (٢)، فإذا قاموا في الصلاة انشقهموها؛ فأمروا عند ذلك بالاستنثار.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ شیطان کے پاس ایک شیشی ہے جس میں سفوف جیسی کوئی چیز ہے، جب لوگ نماز کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ ان کی طرف اسے پھونک دیتا ہے۔ اسی وجہ سے ناک صاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حواشی
(١) في حاشية [خ]: (ابن يزيد النخعي).
(٢) سقط من: [جـ]، وفي [ك]: (نفوخ).