حدیث نمبر: 27690
٢٧٦٩٠ - حدثنا سفيان بن عيينة عن (إبراهيم بن) (١) (ميسرة) (٢) عن ابن (الشريد) (٣) أو يعقوب بن عاصم سمع أحدهما (الشريد) (٤) يقول: أردفني النبي ﷺ خلفه فقال: "هل معك من شعر أمية بن أبي الصلت شيء؟ " (قال) (٥): قلت: نعم! قال: "هيه! " فانشدته بيتًا فقال: "هيه! " فلم يزل (٦): هيه حتى أنشدته مائة (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن شرید یا حضرت یعقوب بن عاصم ان دونوں میں سے ایک فرماتے ہیں کہ حضرت شرید نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سواری پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ۔ اور فرمایا : کیا تمہیں امیہ بن ابی صلت کے شعرکے کچھ اشعار یاد ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سناؤ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک شعر سنا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اور سناؤ، مسلسل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے رہے۔ اور سناؤ اور سناؤ ! یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سو اشعار سنا دیئے۔

حواشی
(١) سقط من [ز].
(٢) في [ز]: (ميسر).
(٣) في [ط]: (السويد).
(٤) في [ط]: (السويد).
(٥) سقطت من [هـ، ط، أ].
(٦) في [ث]: زيادة (يقل).
(٧) في [هـ]: زيادة (بيت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27690
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٢٥٥)، وأحمد (١٩٤٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27690، ترقيم محمد عوامة 26533)