حدیث نمبر: 27653
٢٧٦٥٣ - حدثنا قاسم بن مالك المزني عن عاصم بن كليب عن أبي بردة قال: دخلت على أبي موسى وهو في بيت بنت الفضل، فعطستُ فلم (يشمتني) (١) وعطست فشمتها؟ (فرجعت إلى أمي فأخبرتها، فلما جاءها قالت: عطس عندك ابني فلم تشمته، وعطستْ فشمتها) (٢)، قال: إن ابنك عطس ولم يحمد اللَّه فلم أشمته، وعطست وحمدت اللَّه فشمتها، وسمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إذا عطس أحدكم فحمد اللَّه فشمتوه وإذا لم يحمد اللَّه فلا تشمتوه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو موسیٰ کے پاس آیا اس حال میں کہ آپ بنت فضل کے گھر میں تھے، پس مجھے چھینک آئی تو آپ نے مجھے یرحمک اللہ نہیں کہا اور بنت فضل کو چھینک آئی تو آپ نے اس کو یرحمک اللہ کہا۔ میں اپنی والدہ کے پاس واپس آیا اور میں نے انہیں اس بارے میں بتایا جب وہ آپ کی خد مت میں آئیں تو کہا : بیشک میرے بیٹے کو آپ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس کو تو یرحمک اللہ نہیں کہا ، اور اس لڑکی کو چھینک آئی تو آپ نے اس کو یرحمک اللہ کہا۔ آپ نے فرمایا : تیرے بیٹے کو چھینک آئی اور اس نے الحمد للہ نہیں کہا تو میں نے بھی اسے یرحمک اللہ نہیں کہا ، اور اس لڑکی کو چھینک آئی تو اس نے الحمد للہ کہا تو میں نے بھی اسے یرحمک اللہ کے ذریعہ جواب دیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو تم اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دو اور جب وہ الحمد للہ نہ کہے تو تم بھی یرحمک اللہ مت کہو۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (تشمتني).
(٢) سقط ما بين القوسين من: [أ، جـ، ح، ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27653
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ قاسم وعاصم ثقتان على الصحيح؛ أخرجه مسلم (٢٩٩٢)، وأحمد (١٩٦٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27653، ترقيم محمد عوامة 26496)