مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
في تشميت العاطس، من قال: لا يشمت حتى يحمد الله باب: چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دینے کا بیان اور جو شخص یوں کہتا ہے کہ یرحمک اللہ نہیں کہا جائے گا یہاں تک کہ چھینکنے والا الحمد للہ کہے
٢٧٦٥٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن سليمان التيمي عن أنس بن مالك قال: عطس (رجلان) (١) عند النبي ﷺ فشمت، أو شمت أحدهما ولم يشمت الآخر، فقيل: يا رسول اللَّه عطس عندك رجلان فشمت أحدهما ولم تشمت الآخر، فقال: "إن هذا حمد اللَّه (إن وهذا) (٢) لم يحمد اللَّه" (٣).حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ایک کو تو یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی اور دوسرے کو یرحمک اللہ نہیں کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی ۔ ان میں سے ایک کو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دی اور دوسرے کو یرحمک اللہ نہیں کہا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے الحمد للہ کہا تھا اور اس نے الحمد للہ نہیں کہا۔