حدیث نمبر: 27647
٢٧٦٤٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا داود (عن) (١) أبي (٢) نضرة عن ⦗٣١٣⦘ أبي سعيد أن أبا موسى استأذن على عمر ثلاثًا فلم يأذن له، قال: فانصرف فأرسل إليه عمر: ما ردك؟ قال: استأذنت الاستئذان الذي أمرنا به رسول اللَّه ﷺ، ثلاثًا فإن أذن لنا دخلنا وإن لم يؤذن لنا رجعنا، قال: (لتأتيني) (٣) على هذا ببينة (أو) (٤) لأفعلن وأفعلن، فأتى مجلس قومه فناشدهم، فشهدوا له، فخلى عنه (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے حضرت عمر سے تین مرتبہ اجازت طلب کی پس آپ نے ان کو اجازت نہیں دی تو آپ واپس لوٹ آئے۔ حضرت عمر نے ان کو قاصد بھیج کر بلایا اور پوچھا ؟ کسی چیز نے تمہیں واپس لوٹایا ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے تین مرتبہ اجازت طلب کی جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ اگر ہمیں اجازت مل جائے تو ہم داخل ہوں اور اگر اجازت نہ ملے تو ہم واپس لوٹ آئیں۔ حضرت عمر نے فرمایا : تم اس بات پر کوئی گواہی لاؤ۔ ورنہ میں ایسا اور ایسا کروں گا، (میں تمہیں سزا دوں گا) تو وہ لوگوں کی ایک مجلس میں آئے اور لوگوں کو قسم دے کر اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے ان کے حق میں گواہی دی پھر حضرت عمر نے ان کو چھوڑ دیا۔

حواشی
(١) في [أ، ح، هـ]: (بن).
(٢) في [هـ]: زيادة (هند عن أبي).
(٣) في [أ، ح، ط]: (لتأتين)، وفي [جـ]: (لتأتني).
(٤) في [ط]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27647
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٢٤٥)، ومسلم (٢١٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27647، ترقيم محمد عوامة 26490)