مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
في الاستئذان (كم مرة يستأذن) باب: اجازت طلب کرنے کا بیان کتنی مرتبہ اجازت طلب کی جائے گی؟
٢٧٦٤٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا داود (عن) (١) أبي (٢) نضرة عن ⦗٣١٣⦘ أبي سعيد أن أبا موسى استأذن على عمر ثلاثًا فلم يأذن له، قال: فانصرف فأرسل إليه عمر: ما ردك؟ قال: استأذنت الاستئذان الذي أمرنا به رسول اللَّه ﷺ، ثلاثًا فإن أذن لنا دخلنا وإن لم يؤذن لنا رجعنا، قال: (لتأتيني) (٣) على هذا ببينة (أو) (٤) لأفعلن وأفعلن، فأتى مجلس قومه فناشدهم، فشهدوا له، فخلى عنه (٥).حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے حضرت عمر سے تین مرتبہ اجازت طلب کی پس آپ نے ان کو اجازت نہیں دی تو آپ واپس لوٹ آئے۔ حضرت عمر نے ان کو قاصد بھیج کر بلایا اور پوچھا ؟ کسی چیز نے تمہیں واپس لوٹایا ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے تین مرتبہ اجازت طلب کی جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ اگر ہمیں اجازت مل جائے تو ہم داخل ہوں اور اگر اجازت نہ ملے تو ہم واپس لوٹ آئیں۔ حضرت عمر نے فرمایا : تم اس بات پر کوئی گواہی لاؤ۔ ورنہ میں ایسا اور ایسا کروں گا، (میں تمہیں سزا دوں گا) تو وہ لوگوں کی ایک مجلس میں آئے اور لوگوں کو قسم دے کر اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے ان کے حق میں گواہی دی پھر حضرت عمر نے ان کو چھوڑ دیا۔