حدیث نمبر: 27611
٢٧٦١١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شمر عن يحيى بن وثاب عن عائشة أنها قرب إليها بعير (ا) (١) لتركبه، فالتوى عليها فلعنته، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا تركبيه فإنك (لعنتيه) (٢) " (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن وثاب فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قریب ایک اونٹ کیا گیا تاکہ آپ اس پر سوار ہوجائیں پس اس اونٹ نے آپ پر سوار ہونا دشوار کردیا تو آپ نے اس پر لعنت کی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اس پر سوار مت ہو کیونکہ تم نے اس کو لعنت کی ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [ث].
(٢) في [جـ]: (لعنته).
(٣) منقطع؛ يحيى لم يسمع من عائشة عند الأكثر، أخرجه أحمد (٥٠٧٤)، وأبو يعلى (٤٧٣٢)، وإسحاق (١٦٣٠)، والطبراني في الأوسط (٨٥٩١).