حدیث نمبر: 27609
٢٧٦٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أبي (برزة) (٢) أن جارية بينما هي على بعير أو راحلةٍ عليها متاعٌ للقوم بين جبلين فتضايق بها الجبل، فأتى عليها رسول اللَّه ﷺ فلما (أبصرته) (٣) (جعلت) (٤) تقول: (حل) (٥) اللهم العنه، حل اللهم العنه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "من صاحب الراحلة؟ لا يصحبنا بعير أو راحلة عليها لعنة من اللَّه" -أو كما قال (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان ایک باندی تھی جو اونٹ یا کسی سواری پر سوار تھی اور اس اونٹ پر چند لوگوں کا سامان تھا جو دو پہاڑوں کے درمیان سے گزر رہا تھا، پس پہاڑنے اس کا راستہ تنگ کردیا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس آئے۔ جب عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو اس نے اونٹ کو کہنا شروع کردیا، چل چل۔ اے اللہ ! اس پر لعنت فرما، چل چل۔ اے اللہ ! اس پر لعنت فرما۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس سواری کا مالک کون ہے ؟ ہمارے ساتھ وہ اونٹ یا سواری نہیں چلے گی جس پر اللہ کی لعنت ہو یا جیسا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، هـ].
(٢) في [جـ]: (بردة).
(٣) في [ط]: (ابصره).
(٤) في [جـ]: (وجعلت).
(٥) سقط من: [أ، ح، ث، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27609
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٥٩٦)، وأحمد (١٩٧٩٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27609، ترقيم محمد عوامة 26453)