مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
في الجمع بين كنية النبي ﷺ واسمه باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت اور نام کو جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 27605
٢٧٦٠٥ - حدثنا ابن عيينة عن محمد بن المنكدر (سمع) (١) جابرًا يقول ولد لرجل منا غلام قال: فسماه القاسم، قال: فقلنا: لا (نكنيه) (٢) أبا القاسم لا ننعمه عينًا، فأتى رسول اللَّه ﷺ فذكر له ذلك فقال: " (اسم) (٣) ابنك عبد الرحمن" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے ارشاد فرمایا : کہ ہم میں سے ایک آدمی کے بیٹا پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا۔ اس پر ہم نے کہا ! کہ ہم تجھے ابو القاسم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے اور اس کے ذریعہ سے ہم تیری آنکھ کو ٹھنڈک نہیں پہنچائیں گے، پس وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے بیٹے کا نام عبد الرحمن رکھ لو۔
حواشی
(١) في [جـ]: (وسمع).
(٢) في [ث]: (نكنيك).
(٣) في [ز، هـ]: (سم).