مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
في السلام على أهل (الذمة) ومن قال: (للصعبة) حق باب: ذمیوں پر سلام کرنے کا بیان اور جو یوں کہے کہ ہم نشینی کا بھی کچھ حق ہے
حدیث نمبر: 27539
٢٧٥٣٩ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن (شعيب) (١) بن (الحبحاب) (٢) قال: كنت مع علي بن عبد اللَّه البارقي، فمر علينا يهودي (أو) (٣) نصراني عليه (كارة) (٤) من طعام، فسلم علبه عليٌ، فقال شعيب: فقلت: إنه يهودي أو نصراني، فقرأ على آخر سورة الزخرف: ﴿وَقِيلِهِ يَارَبِّ إِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَا يُؤْمِنُونَ (٨٨) فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ﴾ [٨٨ - ٨٩].مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعیب بن حبحاب فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بن عبد اللہ البارقی کے ساتھ تھا کہ ہمارے پاس سے ایک یہودی یا نصرانی گزرا جس کے پاس کھانے کا بوجھ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو سلام کیا۔ اس پر حضرت شعیب کہتے ہیں کہ میں نے فرمایا : یہ تو یہودی یا نصرانی ہے ! تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سورة زخرف کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : قسم ہے رسول کے اس کہے کی کہ اے رب یہ لوگ ہیں کہ یقین نہیں لاتے ، سو تو منہ پھیر لے ان کی طرف سے اور کہہ سلام ہے۔ اب آخر کو وہ معلوم کرلیں گے۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (سعيد).
(٢) في [أ، ح، ط]: (الحجاب)، وفي [ز]: (الحبحباب).
(٣) في [ط]: (و).
(٤) سقط من: [ط].