حدیث نمبر: 27502
٢٧٥٠٢ - حدثنا ابن علية عن يونس عن أبي (الجراح) (١) عن رجل من أهل ⦗٢٧٨⦘ الحجاز قال: (قالت) (٢) (لي) (٣): امرأتي ائتني بأبي هريرة حتى أستفتيه (عن) (٤) بعمق (شأني) (٥)، فأتيته فجاء معي، فلما انتهينا إلى الباب قال: ادخل الدار، فدخلت فقلت: هذا أبو هريرة (٦) قد جاء فقال: السلام عليكم أدخل؟ (فقلنا) (٧): ادخل بسلام، فعاد فقال: السلام عليكم أدخل، (فقلنا) (٨): ادخل بسلام، قال: قولوا: ادخل؟ فقال: السلام عليكم (أدخل) (٩)؟ (فقلنا) (١٠) (له) (١١): ادخل، فدخل (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو الجراح فرماتے ہیں کہ اہل حجاز میں سے ایک آدمی نے بیان کیا کہ میری بیوی نے مجھے کہا : تم حضرت ابوہریرہ کو میرے پاس لے آؤ یہاں تک کہ میں ان سے اپنے متعلق فتویٰ پوچھ لوں ، پس میں آپ کے پاس آیا تو آپ میرے ساتھ آگئے، جب ہم دروازے پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : گھر میں داخل ہو جاؤ ، تو میں داخل ہوگیا اور میں نے کہا : یہ حضرت ابوہریرہ آگئے ہیں۔ آپ نے فرمایا : السلام علیکم : کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ ہم نے کہا : آپ سلامتی کے ساتھ داخل ہوجائیں۔ آپ نے دو بارہ کہا : السلام علیکم، کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ ہم نے پھر کہا : آپ سلامتی کے ساتھ داخل ہوجائیں۔ آپ نے فرمایا : تم لوگ یوں کہو کہ داخل ہوجائیں۔ آپ نے پوچھا : السلام علیکم، کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ ہم نے ان سے کہا : داخل ہوجائیں ۔ پس آپ داخل ہوگئے۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (الحرام)، وانظر: فتح الباب في الكنى والألقاب (١/ ٢٠٢).
(٢) في [ط]: (قلت).
(٣) في [جـ، ز]: زيادة (لي).
(٤) في [ز]: (في).
(٥) في [أ، جـ، ح، ط، هـ]: (شيء).
(٦) في [ط]: زيادة (حتى استفتيته عن بعمق شيء فأتيته إلى).
(٧) في [ط]: (فقال).
(٨) في [جـ، ز]: (قلنا).
(٩) سقط من: [ط].
(١٠) في [ز]: (قلنا).
(١١) سقط من: [جـ، ح، ز].
(١٢) مجهول، لإبهام الرجل، وجهالة أبي الجراح.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27502
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27502، ترقيم محمد عوامة 26351)