مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
في الرجل يستأذن ولا يسلم باب: اس آدمی کا بیان جو اجازت طلب کرے اور سلام نہ کرے
٢٧٤٩٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن الجريري عن (ابن) (١) بريدة قال: استأذن رجل على رجل من أصحاب النبي ﷺ وهو قائم على (الباب) (٢) فقال: (أأدخل) (٣) ثلاث مرات، وهو ينظر إليه فلم يأذن له، (ثم قال) (٤) (له) (٥): السلام عليكم (أأدخل) (٦) فقال (٧): (ادخل) (٨) ثم قال: لو (قمت) (٩) إلى الليل (تقول) (١٠): (أأدخل) (١١) ما أذنت لك، حتى تبدأ بالسلام (١٢).حضرت ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی صحابی سے اجازت مانگی اس حال میں کہ وہ دروازے پر کھڑے ہوئے تھے۔ اس شخص نے تین مرتبہ کہا۔ کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ آپ اس کی طرف دیکھ رہے تھے مگر س کو اجازت نہیں دی۔ پھر اس نے ان سے یوں پوچھا : السلام علیکم کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ آپ نے اس سے کہا : داخل ہو جاؤ ۔ پھر فرمایا : اگر تم پوری رات بھی کھڑے ہو کر کہتے رہتے کہ کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ تو میں تمہیں اجازت نہ دیتا یہاں تک کہ تم سلام سے ابتداء کرتے۔