حدیث نمبر: 27498
٢٧٤٩٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن الجريري عن (ابن) (١) بريدة قال: استأذن رجل على رجل من أصحاب النبي ﷺ وهو قائم على (الباب) (٢) فقال: (أأدخل) (٣) ثلاث مرات، وهو ينظر إليه فلم يأذن له، (ثم قال) (٤) (له) (٥): السلام عليكم (أأدخل) (٦) فقال (٧): (ادخل) (٨) ثم قال: لو (قمت) (٩) إلى الليل (تقول) (١٠): (أأدخل) (١١) ما أذنت لك، حتى تبدأ بالسلام (١٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی صحابی سے اجازت مانگی اس حال میں کہ وہ دروازے پر کھڑے ہوئے تھے۔ اس شخص نے تین مرتبہ کہا۔ کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ آپ اس کی طرف دیکھ رہے تھے مگر س کو اجازت نہیں دی۔ پھر اس نے ان سے یوں پوچھا : السلام علیکم کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ آپ نے اس سے کہا : داخل ہو جاؤ ۔ پھر فرمایا : اگر تم پوری رات بھی کھڑے ہو کر کہتے رہتے کہ کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ تو میں تمہیں اجازت نہ دیتا یہاں تک کہ تم سلام سے ابتداء کرتے۔

حواشی
(١) في [ز] سقط (ابن).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (أدخل).
(٤) في [ز]: (فقال له)، وفي [ط]: (فقال له).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (أدخل).
(٧) في [جـ، ز]: زيادة (له).
(٨) في [ط]: (الرجل).
(٩) في [ز]: (أقمت).
(١٠) سقط من: [ط].
(١١) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (أدخل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27498
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27498، ترقيم محمد عوامة 26347)