حدیث نمبر: 27399
٢٧٣٩٩ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن زرارة بن (١) أوفى قال: حدثني عبد اللَّه ابن سلام قال: لما قدم رسول اللَّه ﷺ (إلى) (٢) المدينة انجفل الناس قبله، وقيل: قدم رسول اللَّه ﷺ (٣) فجئت في الناس لأنظر، فلما (تبينت) (٤) وجهه عرفت أن وجهه ليس بوجه كذاب، فكان أول شيء سمعته يتكلم به أن ⦗٢٥٢⦘ قال: "يا أيها الناس أفشوا السلام" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ جلدی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آگئے اور کہا جارہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں بھی لوگوں کے ساتھ آیا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھوں۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چمکتا ہوا چہرہ دیکھا تو میں نے پہچان لیا کہ بیشک یہ چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے اور سب سے پہلی بات جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنی وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو ! سلام کو پھیلاؤ۔

حواشی
(١) في [جـ، ط]: زيادة (أبي).
(٢) سقط من: [جـ، ز].
(٣) سقط من: [ز].
(٤) في [ط]: (تبيت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27399
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٧٨٤)، والترمذي (٢٤٨٥)، وابن ماجه (٣٢٥١)، والحاكم (٤/ ١٥٩)، وعبد بن حميد (٤٩٦)، والدارمي (٢٦٣٢)، ويعقوب في المعرفة (١/ ٢٦٤)، وابن أبي عاصم في الأوائل (٨٠)، وابن نصر في قيام الليل (٢٠)، وابن قانع (٢/ ١٣٢)، والطبراني ١٣/ (٣٨٥)، وابن السني (٢١٥)، وتمام (١١٧٥)، والقضاعي في مسند الشهاب (٧١٩)، والبيهقي (٢/ ٥٠٢)، والبغوي (٩٢٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27399، ترقيم محمد عوامة 26254)