حدیث نمبر: 27370
٢٧٣٧٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن نافع قال: كنت أسير مع عبد اللَّه بن أبي زكريا في أرض (الروم) (١)، فبالت دابتي، فقامت فبالت، فلحقته فقال: ألا سلمت، فقلت إنما فارقتك الآن، قال: وإن فارقتني، كان أصحاب رسول اللَّه ﷺ يتسايرون فتفرق بينهم الشجرة [(فيلتقون) (٢) فيسلم بعضهم على بعض (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن ابی زکریا کے ساتھ روم کے علاقہ میں سفر کر رہا تھا کہ میری سواری کے جانور کو پیشاب آیا تو اس جانور نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، پھر میں دوبارہ آپ کے ساتھ جا ملا۔ آپ نے فرمایا : تم نے سلام کیوں نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا : میں ابھی تو آپ سے جدا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا : اگرچہ ابھی تم مجھ سے جدا ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ سفر کر رہے ہوتے تھے کہ ان کے درمیان درخت جدائی کردیتے تھے جب وہ دوبارہ اکٹھے ہوتے تو ان میں سے بعض بعض کو سلام کرتے تھے۔

حواشی
(١) في [ط]: (الدوم).
(٢) في [هـ]: (فيتلقون).
(٣) منقطع؛ قال أبو زرعة: "لا أعلم عبد اللَّه بن أبي زكريا لقي أحدًا من أصحاب النبي ﷺ".
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27370
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27370، ترقيم محمد عوامة 26225)