مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من كان (يكره إذا) سلم أن (يقول): السلام عليك، حتى يقول: عليكم باب: جو شخص مکروہ سمجھے سلام کے جواب میں السلام علیک کہنے کو، یہاں تک کہ علیکم کہا جائے
حدیث نمبر: 27363
٢٧٣٦٣ - حدثنا أبو أسامة عن عبد المؤمن قال: سلمت على رجل يمشي مع مسلم بن يسار فقلت: السلام عليك، فقال لي مسلم: (مه) (١)، فقلت: (إني) (٢) عرفته، فقال: وإن إذا سلمت فقل السلام (عليكم) (٣)، فإن معه حفظة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد المومن فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سلام کیا جو حضرت مسلم بن یسار کے ساتھ چل رہا تھا ۔ میں نے یوں کہا : السلام علیک، اس پر حضرت مسلم نے مجھ سے فرمایا : رک جاؤ۔ میں نے کہا : میں اس کو جانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : اگرچہ پہچانتے ہو ۔ جب تم سلام کرو تو یوں کہا کرو : السلام علیکم، اس لیے کہ اس شخص کے ساتھ نگران فرشتے بھی ہوتے ہیں۔
حواشی
(١) في [هـ]: (منه).
(٢) في [ط]: (إن).
(٣) في [أ، ح]: (عليك).