مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
في الرجل يبلغ الرجل (السلام) ما يقول له؟ باب: اس آدمی کا بیان جو کسی دوسرے آدمی کو سلام پہنچائے تو اس کو یوں کہا جائے
٢٧٣٥٠ - حدثنا (أبو بكر قال) (١): حدثنا إسماعيل بن علية عن غالب قال: إنا لجلوس بباب الحسن إذ (جاء) (٢) رجل، (فقال) (٣): حدثني أبي عن جدي قال: بعثني أبي إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: (ائته) (٤) فأقرئه السلام، فأتيته فقلت: (إن) (٥) أبي (يقرئك) (٦) السلام، فقال: "وعليك وعلى أبيك السلام" (٧).حضرت غالب فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : میرے والد نے میرے دادا سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : کہ میرے والد نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا : کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرا سلام کہنا، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا میں نے کہا کہ میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہہ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علیک و علی رضی اللہ عنہابیک السلام۔ تجھ پر اور تیرے والد پر سلام ہو۔