حدیث نمبر: 27333
٢٧٣٣٣ - حدثنا يحيى بن محمد القرشي أبو (زكير) (١) سمع زيد بن أسلم يقول: بعثني أبي إلى ابن عمر فقلت: (ألج) (٢) فقال: لا تقل هكذا، ولكن قل: السلام عليكم، فإذا قيل: وعليكم، فأدخل (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا تو میں نے ان کو کہا : کیا میں آجاؤں ؟ آپ نے فرمایا : تم اس طرح مت کہو اور یوں کہو : السلام علیکم : جب تمہیں کہہ دیا جائے، وعلیکم السلام، تو تم داخل ہو جاؤ۔

حواشی
(١) في [ط]: (ذكر)، وفي [ز]: (زكين).
(٢) في [هـ]: (أألج).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27333
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يحيى.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27333، ترقيم محمد عوامة 26188)