حدیث نمبر: 27332
٢٧٣٣٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن واصل بن السائب عن أبي سورة عن أبي أيوب الأنصاري (قال) (١): (قلنا) (٢): يا رسول اللَّه! هذا السلام (٣). فما الاستئناس؟ قال: "يتكلم الرجل بتسبيحة وتكبيرة وتحميدة ويتنحنح ويوذن أهل البيت" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب انصاری فرماتے ہںَ کہ ہم لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تو سلام کرنا ہے پس اجازت کیسے طلب کی جائے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آدمی سبحان اللہ، اللہ اکبر، الحمد للہ کہہ لے اور کھنکھار لے اور گھر والوں کو اجازت دے۔
حواشی
(١) في [ط]: (قالت).
(٢) في [أ، ح، هـ]: (قلت).
(٣) في [أ، ح، ط]: (عليكم)، وفي [جـ]: (عرفناه).