حدیث نمبر: 27331
٢٧٣٣١ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن محمد بن عجلان سمع عامر بن عبد اللَّه بن الزبير يقول: حدثتني ريحانة أن أهلها أرسلوها إلى عمر، فدخلت عليه بغير إذن، فعلمها فقال لها: اخرجي فسلمي، فإذا رد عليك فاستأذني (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامر بن عبد اللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ریحانہ نے بیان فرمایا : کہ میرے گھر والوں نے مجھے حضرت عمر کے پاس بھیجا، تو میں آپ کے پاس بغیر اجازت کے داخل ہوگئی۔ آپ نے مجھے اجازت کا طریقہ سکھلایا اور فرمایا : باہر جاؤ پھر سلام کرو اور جب تمہیں سلام کا جواب دیا جائے تو پھر اجازت مانگو۔

حواشی
(١) مجهول؛ لجهالة ريحانة، أخرجه أبو داود (٤٢٣٠)، وقد ذكر ابن حجر في الإصابة ٧/ ٦٦٢، ريحانة في القسم الثالث.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27331
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27331، ترقيم محمد عوامة 26186)