٢٧٣٣٠ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور (عن ربعي) (١) قال: حدثني رجل من ⦗٢٣١⦘ بني عامر استأذن على النبي ﷺ وهو في بيت فقال: (أألج؟) (٢) فقال النبي ﷺ (لخادمه) (٣): "أخرج إلى هذا فعلمه الاستئذان وقل له: قل السلام عليكم. (أدخل؟) (٤) "، (فسمعه) (٥) الرجل فقال: السلام عليكم (أدخل؟) (٦) فأذن له النبي ﷺ فدخل (٧).حضرت ربعی فرماتے ہیں کہ بنو عامر کے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تھے، اس شخص نے کہا : کیا میں آجاؤں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خادم سے کہا : اس کے پاس جاؤ اور اس کو اجازت طلب کرنے کا طریقہ سکھلاؤ۔ اس کو کہو کہ یوں کہے : السلام علیکم، کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ اس آدمی نے یہ سن لیا اور کہا : السلام علیکم : کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے داخل ہونے کی اجازت دے دی اور وہ داخل ہوگیا۔