مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
في الرجل يؤمر أن يجالس ويداخل باب: اس آدمی کا بیان جس کو مجلس اختیار کرنے اور دخل دینے کا حکم دیا گیاہو
٢٧٢٤٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن أبي جعفر (الخطمي) (١) أن جده -وهو عمير بن حبيب- أوصى بنيه فقال: يا بني! إياكم ومجالسة السفهاء فإن مجالستهم داء، إنه من يحلم عن السفيه يُسرُّ (بحلمه) (٢) ومن يجبه يندم، ومن لا يقر بقليل ما يجيء به السفيه يقر (بالكثير) (٣)، وإذا أراد أحدكم أن يأمر بالمعروف وينهى عن المنكر فليوطن نفسه على الصبر على الأذى، فإنه من يصبر لا يجد للأذى مسًا (٤).حضرت ابو جعفر الخطمی فرماتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عمیر بن حبیب نے اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی : کہ اے میرے بیٹھے ! تم بیوقوفوں کی صحبت اختیار کرنے سے بچو پس بیشک ان کی صحبت تو بیماری ہے، اور جو شخص بیوقوف سے درگزر کرتا ہے تو اس کی درگزر کی وجہ سے اس کو خوشی ملتی ہے اور جو بیوقوف سے محبت کرتا ہے تو وہ شرمندہ ہوتا ہے، اور جو شخص بیوقوف کی تھوڑی بات سے بھی آنکھ ٹھنڈی نہیں کرتا تو اس کی آنکھ کثرت سے ٹھنڈی ہوتی ہے ، اور تم میں کوئی ارادہ کرے نیکی کے حکم کرنے کا اور برائی سے روکنے کا تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو تکلیف پر صبر کرنے کا عادی بنادے ۔ اس لیے کہ جو شخص صبر کرتا ہے تو اس کو تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔