حدیث نمبر: 27238
٢٧٢٣٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن أبيه عن طارق قال: كنا جلوسًا عند الشعبي فجاء جرير بن يزيد فدعا له الشعبي بوسادة فقلنا (له) (١): يا أبا ⦗٢٠٧⦘ (عمرو) (٢) (نحن) (٣) عندك أشياخ، دعوت لهذا الغلام بوسادة؟ فقال: إن رسول اللَّه ﷺ قال: "إذا أتاكم كريم قوم فأكرموه" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت شعبی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت جریر بن یزید تشریف لائے تو حضرت شعبی نے ان کے لیے تکیہ منگوایا، تو ہم نے آپ سے کہا : اے ابو عمرو ! ہم آپ کے پاس بڑے لوگ ہیں اور آپ اس بچے کے لئے تکیہ منگوا رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تمہارے پاس پاس قوم کا معزز شخص آئے تو تم اس کا اکرام کرو۔
حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ، ح، ط]: (عمر).
(٣) في [ز]: (ونحن).