مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما قالوا: في النهي (عن) الوقيعة في الرجل والغيبة باب: کسی آدمی کو برا بھلا کہنے اور اس کی غیبت سے رکنے کا بیان
حدیث نمبر: 27202
٢٧٢٠٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن الحارث قال: كنت (آخذا) (١) بيد إبراهيم ونحن نريد المسجد، قال: فذكرت رجلًا فاغتبته، قال: فقال (لي) (٢) إبراهيم: ارجع فتوضأ، كانوا يعدون هذا هُجرًا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عجلان فرماتے ہیں کہ حضرت حارث نے ارشاد فرمایا : کہ میں ابراہیم کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا اور ہم دونوں کا مسجد جانے کا ارادہ تھا اتنے میں میں نے ایک آدمی کا ذکر کیا اور اس کی غیبت کی تو ابراہیم نے مجھ سے فرمایا : واپس جاؤ اور وضو کرو ، صحابہ اس کو فحش گوئی شمار کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [ز، ط]: (أخذ).
(٢) في [أ، جـ، ز، ط]: (لي)، وسقط من: [هـ].