مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما قالوا: في النهي (عن) الوقيعة في الرجل والغيبة باب: کسی آدمی کو برا بھلا کہنے اور اس کی غیبت سے رکنے کا بیان
حدیث نمبر: 27194
٢٧١٩٤ - حدثنا ابن عيينة عن زياد بن علاقة عن أسامة (بن) (١) شريك قال: شهدت الأعراب يسألون (٢) رسول اللَّه ﷺ: علينا حرج في كذا وكذا؟ فقال: "عباد اللَّه! وضع اللَّه الحرج إلا من (اقترض) (٣) من عرض أخيه شيئًا، (فذلك) (٤) الذي حرج" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن علاقہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ بن شریک نے ارشاد فرمایا : میں حاضر تھا کہ بدؤں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا : کہ اس طرح اور اس طرح کرنے میں ہم پر گناہ ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! اللہ کے بندو ! اللہ نے گناہ ہٹا دیا ہے مگر جو کوئی شخص اپنے بھائی کی غیبت کرتا ہے تو اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوا۔
حواشی
(١) في [ز]: (أبي).
(٢) في [هـ]: زيادة (عن).
(٣) في [أ، ح، ط]: (اقرض).
(٤) في [ز]: (فذاك).