مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما قالوا: في البر وصلة الرحم باب: بعض لوگوں نے نیکی اور صلہ رحمی کے بارے میں یوں فرمایا
حدیث نمبر: 27036
٢٧٠٣٦ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا موسى بن عبيدة قال: حدثنا المنذر بن جهم الأسلمي عن نوفل بن مساحق عن أم سلمة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "الرحم شجنة آخذة بحجزة الرحمن تناشد حقها فيقول: ألا ترضين أن أصل من وصلك وأقطع من قطعك، من وصلك فقد وصلني، ومن قطعك فقد قطعني" (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رشتہ داری ایک شاخ کی طرح ہے جو رحمن سے التجا کرکے اپنے حق کے بارے میں پکارتی ہے پس یوں کہتی ہے : کیا تو خوش نہیں کہ میں جوڑتی ہوں اس شخص کو جو تجھ سے جڑتا ہے اور میں توڑتی ہوں اس شخص سے جو تجھ سے تڑتا ہے ؟ جو شخص تجھ سے جڑتا ہے وہ مجھے بھی جوڑتا ہے، اور جو تجھ سے توڑتا ہے وہ مجھے بھی توڑتا ہے۔
حواشی
(١) مجهول؛ لجهالة المنذر بن جهم الأسلمي، وموسى ضعيف، أخرجه الطبراني ٢٣/ (٩٧٠)، وابن أبي عاصم في السنة (٥٣٧)، وابن عساكر (٦٢/ ٢٩٣)، ثم خولف فيه فقد رواه جماعة عن نوفل عن سعيد بن زيد، كذا أخرجه أحمد (١٦٥١)، والبزار (١٢٦٥)، والحاكم ٤/ ١٥٧، والشاشي (٢٠٥)، والطبراني (٣٥٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (٦٧١٠)، وابن قانع ١/ ٢٦٠، والضياء في المختارة (١١٠٥).