حدیث نمبر: 27030
٢٧٠٣٠ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن زرارة بن أوفى عن عبد اللَّه بن سلام قال: لما قدم رسول اللَّه ﷺ المدينة انجفل الناس نحوه فأتيته، فلما نظرت إليه عرفت أن وجهه ليس (بوجه) (١) كذاب، فكان أول شيء سمعته يقول: "يا أيها الناس أفشوا السلام وصلوا الأرحام وأطعموا الطعام وصلوا بالليل والناس نيام" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے ، تو لوگ جلدی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ، آپ کہتے ہیں کہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا تو میں نے پہچان لیا کہ بیشک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے اور سب سے پہلی بات جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنی وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو ! سلام کو پھیلاؤ، اور صلہ رحمی کرو اور کھانا کھلاؤ، اور رات کو نماز پڑھو ، اس حال میں کہ لوگ سو رہے ہوں۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (وجه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27030
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٧٨٤)، وابن ماجه (١٣٣٤)، والحاكم (٣/ ١٣)، وعبد بن حميد (٤٩٦)، والدارمي (١٤٦٠)، ويعقوب في المعرفة (١/ ٢٦٤)، وابن أبي عاصم في الأوائل (٨٠)، ومحمد بن نصر في قيام الليل (٢٠)، وابن قانع ٢/ ١٣٢، والطبراني ١٣/ (٣٨٥)، وابن السني (٢١٥)، وتمام (١١٧٤)، والبيهقي ٢/ ٥٠٢، والبغوي (٩٢٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27030، ترقيم محمد عوامة 25898)