حدیث نمبر: 27028
٢٧٠٢٨ - حدثنا ابن عيينة عن (الزهري عن) (١) أبي سلمة بن عبد الرحمن أن عبد الرحمن عاد أبا (الرداد) (٢) فقال خيرهم وأوصلهم أبو محمد -يعني ابن عون-: ⦗١٤٦⦘ سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "قال اللَّه: أنا اللَّه وأنا الرحمن، وهي الرحم، شققت لها اسمًا من أسمي، فمن وصلها وصلته ومن قطعها بتته" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حضرت ابو الرداد کی عیادت کی اور فرمایا : لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اللہ نے فرمایا ! میں اللہ ہوں اور میں رحمن ہوں اور یہی رحم ہے میں نے اپنے نام میں سے ایک نام مشتق کردیا ۔ پس جو شخص صلہ رحمی کرے گا تو میں اس کو جوڑ دوں گا اور جو شخص قطع تعلقی کرے گا تو میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔

حواشی
(١) في [هـ]: سقطة (عن الزهري).
(٢) في [جـ، ح، ز]: (الدرداء).
(٣) منقطع؛ أبو سلمة بن عبد الرحمن لم يسمع من أبيه، أخرجه أحمد (١٦٨٦)، وأبو داود (١٦٩٤)، والترمذي (١٩٠٧)، والبزار (٩٩٢)، وأبو يلعى (٨٤٠)، والحاكم ٤/ ١٥٨، والحميدي (٦٥)، والبغوي (٣٤٣٢)، وابن حبان (٤٤٣)، وعبد الرزاق (٢٠٢٣٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27028
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27028، ترقيم محمد عوامة 25896)