مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما ذكر في الغضب مما يقوله (الرجل) باب: ان روایات کا بیان جو غصہ کے بارے میں ہیں، اور آدمی غصہ میں کیا کہے
حدیث نمبر: 27021
٢٧٠٢١ - حدثنا ابن نمير عن هشام بن عروة عن أبيه عن الأحنف بن قيس عن ابن عم له من بني تميم (عن) (١) (جارية) (٢) بن قدامة أنه قال: يا رسول اللَّه قل ⦗١٤٣⦘ لي قولًا (وأقلل) (٣) لعلي أعيَه قال: "لا تغضب"، فأعاد عليه مرارًا كل ذلك يقول: "لا تغضب" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جاریہ بن قدامہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے کچھ نصیحت کردیں اور مختصر نصیحت ہو تاکہ میں اس کو محفوظ کرسکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو غصہ مت کیا کر، آپ نے بار بار اپنا سوال دہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر بار یہی بات ارشاد فرمائی : تو غصہ مت کیا کر۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ]، وانظر: الآحاد (١١٦٧)، والطبراني (٢١٠٢)، وغوامض الآحاد ١/ ١٢٢، ولعل لفظة (عن) زيادة من المؤلف فقد رواه جماعة من طريق ابن نمير بدونها، انظر: معجم الطبراني الكبير (٢٠٩٨)، ومسند أحمد (٢٠٣٥٧)، وطبقات ابن سعد ٧/ ٥٦، ومعجم الصحابة لابن قانع ١/ ١٥٧، وتصحيفات المحدثين للعسكري ٢/ ٥١٧.
(٢) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (حارثة).
(٣) في [أ، جـ، ح، ط]: (وقل)، وفي [ز]: (وأقل).