مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما لا ينبغي من هجران الرجل أخاه باب: اس بات کا بیان کہ آدمی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے قطع تعلقی کرے
حدیث نمبر: 27009
٢٧٠٠٩ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عطاء بن (يزيد) (١) عن أبي أيوب عن النبي ﷺ (قال) (٢): "لا يحل لمسلم (أن) (٣) يهجر أخاه فوق ثلاث، يلتقيان (يصد) (٤) هذا ويصد هذا، (و) (٥) خيرهما الذي يبدأ بالسلام" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب انصاری فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے۔ وہ دونوں آپس میں ملیں تو یہ اس سے اعراض کرے اور وہ اس سے اعراض کرے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرلے۔
حواشی
(١) في [ز]: (زيد).
(٢) سقط من: [أ، جـ، ح، ط]، وتكررت في: [ز].
(٣) سقط من: [أ، جـ، ح، ز، ط].
(٤) في [جـ، ز]: (فيصد).
(٥) سقط من: [أ، جـ، ح، ز، ط].