مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
الرجل يتكئ على (المرافق) المصورة باب: تصویروں والے تکیے پر ٹیک لگانا کیسا ہے؟
٢٦٩٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن علقمة عن محمد بن سيرين ⦗١١٣⦘ قال: نبئت عن (حطان) (١) بن عبد اللَّه قال: أتى عليَّ صاحب (لي) (٢) فناداني فأشرفت عليه فقال: قرئ علينا كتاب أمير المؤمنين يعزم على من كان في بيته (ستر منصوب) (٣) فيه تصاوير لما وضعه، فكرهت أن (أبيت) (٤) عاصيًا، فقمنا إلى قرام لنا فوضعته (٥).حضرت حطان بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک دوست آیا اور اس نے مجھے آواز دی ، میں نے جھانک کر اسے دیکھا تو اس نے کہا کہ ہمارے سامنے امیر المؤمنین کا ایک خط پڑھا گیا ہے جس میں لکھا تھا کہ جن گھروں میں ایسے پردے ہیں جن پر تصویریں ہیں ان پر لازم ہے کہ ان پردوں کو اتار دیں۔ پس میں نے رات کو گناہ گار ہونے کی حالت میں گزارنا مناسب نہ سمجھا اور ان پردوں کو اتار دیا۔ محمد فرماتے ہیں کہ اسلاف بچھائی جانے والی چیزوں پر تصویروں کو مکروہ خیال نہ فرماتے تھے بلکہ آویزاں کی جانے والی چیزوں پر تصویروں کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔