٢٦٨٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن الزهري عن سالم بن عبد اللَّه قال: (أعرست) (١) في عهد أبي فآذن أبي الناس، وكان فيمن آذن أبو أيوب، وقد سترت بيتي (بجنادي) (٢) أخضر، فجاء أبو أيوب فدخل وأبي قائم ينظر، فإذا البيت (مُسّتر) (٣) بجنادي أخضر، فقال: (إي) (٤) عبد اللَّه: تسترون (الجدر) (٥) فقال أبي (واستحيا) (٦): غلبنا النساء يا أبا أيوب، (قال) (٧): من (خشي) (٨) أن يغلبه النساء (فلم) (٩) أخش أن يغلبنك، لا أطعم (لك) (١٠) طعامًا ولا أدخل (لك) (١١) بيتًا ثم خرج (١٢).حضرت سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے عہد میں ولیمہ کیا۔ پس میرے والد نے بہت سے لوگوں کو بلایا۔ جن لوگوں کو بلایا تھا ان میں حضرت ابو ایوب بھی تھے۔ اور میں نے اپنے کمرے کو سبز پردوں سے تیار کیا ہوا تھا۔ حضرت ابو ایوب تشریف لائے اور میرے والد کھڑے دیکھ رہے تھے۔ کہ گھر سبز پردوں سے مستور تھا۔ حضرت ابوایوب نے کہا۔ اے ابو عبد اللہ ! تم دیواروں پر پردے لگاتے ہو ؟ میرے والد نے کہا۔ اور انہیں تب شرمندگی ہو رہی تھی… اے ابو ایوب ! ہم پر عورتیں غالب آگئیں ہیں۔ حضرت ابو ایوب نے کہا۔ جو شخص یہ خوف رکھتا ہے کہ اس پر عورتیں غالب آجائیں گی تو پھر مجھے اس کا کوئی خوف نہیں کہ وہ تم پر غالب آجائیں۔ میں تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا۔ اور تمہارے گھر میں داخل نہیں ہوں گا۔ پھر آپ باہر نکل گئے۔