مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
في واصلة الشعر بالشعر باب: بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی کے بارے میں
حدیث نمبر: 26863
٢٦٨٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١)، [عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: سمعت الحسن (بن مسلم) (٢) يحدث عن صفية بنت شيبة عن عائشة أن جارية من الأنصار تزوجت وأنها مرضت (فتمرط) (٣) شعرها فأرادوا أن يصلوه فسألوا رسول اللَّه ﷺ عن ذلك فلعن الواصلة والمستوصلة (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انصار کی ایک لڑکی کی شادی ہوئی اور وہ بیمار ہوگئی۔ جس سے اس کے بال جھڑ گئے۔ لوگوں نے اس کے بال لگوانا چاہے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی پر لعنت فرمائی۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (بكر).
(٢) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٣) في [أ، ح، ط]: (فتمرض).