حدیث نمبر: 26822
٢٦٨٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن عامر قال: أخرج إلينا علي بن الحسين سيف رسول اللَّه ﷺ فإذا قبيعته والحلقتان ⦗٨٠⦘ اللتان (فيهما) (١) الحمائل فضة، قال: فسألته فإذا هو قد نُحل (٢)، كان سيف منبه بن الحجاج السهمي اتخذه النبي ﷺ لنفسه يوم بدر، قال: وأخرج إلينا درعه فإذا هي يمانية رقيقة ذات (زُرافين) (٣) فإذا علقت بزرافينها (شمرت) (٤)، وإذا أرسلت مست الأرض (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن الحسین نے ہمیں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار نکال کر دکھائی تو اس میں ایک قبضہ اور دو کڑے تھے جن میں چاندی کی حمائل تھی۔ راوی کہتے ہیں ۔ میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا ۔ تو وہ ہدیہ کی ہوئی معلوم ہوئی۔ یہ منبہ بن حجاج سہمی کی تلوار تھی۔ جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن اپنے لیے لیا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر انہوں نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زرہ دکھائی وہ دو کڑیوں والی باریک یمنی زرہ تھی۔

حواشی
(١) في [ز]: (فيها).
(٢) أي: أهدي.
(٣) في [جـ]: (رزاقين)، والزرافين: حلقات الدرع، انظر: لسان العرب ١٣/ ١٩٧، وتاج العروس ٣٥/ ١٤٥.
(٤) في [أ، هـ]: (سمرت)، وفي [جـ]: (ثمرت).
(٥) منقطع ضعيف؛ جابر الجعفي ضعيف، علي بن الحسين لم يدرك زمن النبوة، وأخرجه ابن عساكر ٤/ ٢٢٢ في أخلاق النبي (٤١٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26822
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26822، ترقيم محمد عوامة 25697)