حدیث نمبر: 26819
٢٦٨١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو نعيم عن قرة بن خالد عن أبي وحشية الصيقل قال: دعاني مصعب فأخرج إلي سيفين فقال: أي هذين خير؟ فقلت: هذا، وعلى قائمه (حبة) (١) من فضة، فقال الناس: هذا سيف أبي (بكر) (٢) الصديق (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وحشیہ صیقل سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت مصعب نے مجھے بلایا اور پھر انہوں نے مجھے دو تلواریں نکال کردکھائیں ۔ اور پوچھا… ان دونوں میں سے کون سی بہتر ہے ؟ میں نے کہا…یہ … اور اس کے قبضہ پر چاندی کے ذرات تھے۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابوبکر صدیق کی تلوار ہے۔
حواشی
(١) في [ط]: (حد).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) مجهول؛ لجهالة أبي وحشية، وأخرجه الطحاوي في شرح المشكل (٤/ ٢٤).